|
|
| غزل |
کبھي خاموش بيٹھو گے
کبھي کچھ گنگناؤں گے
ميں اتنا يا دآؤ نگا
مجھے جتنا بھلاؤں گے
کوئي جب پوچھ بيٹھے گا
خاموشي کا سبب تم سے
بہت سمجھانا چاہوں گے
مگر سمجھا نہ پائو گے
ميرا غم مسکرانے پر
مجبور کر دے گا
کسي محفل ميں جاؤ گے
تو رسمن مسکراؤ گے
تصور ميں کبھي آؤ نگا
لمحات حسين بن کر
کبھي آہٹ ميں پاؤ گے
پر مجھ کو نہ پاؤگے |
|
 |