چھا گيا جو قلب و نظر پہ بادل کي طرح
وہ چمکتا ہے ميري آنکھوں ميں کاجل کي طرحوہ سمندر ہے جفا کا توڑنا چاہے مجھے
ميں مگر روکوں اسے مضبوط ساحل کي طرح
اے مير شہر تيري ہوش و خرو کے سبب
شہر يہ تو آج کل لگتا ہے جنگل کي طرح
بند کر کے اپني آنکھيں بھول کر سارا جہاں
ديکھتا ہوں اس کو ميں خواب مسلسل کي طرح
اس کي يادوں سے ميں کبھي غافل ہوتا نہيں
وہ تو ميرے دل ميں رہتا ہے دل کي طرح |