|
آج جي بھر کے رونے کو جي چاہتا ہے
گزرے حسين لمحوں ميں کھونے کو جي چاہتا ہے
سالوں سے نہ پہنچ سکا ساحل پر کہ اب
خود اپن کوشتي ڈبونے کو جي چاہتا ہے
اتني گرد چڑھ گئي ہے گناہوں کي مجھ پر
کہ اب اپني روح دھونے کوجي چاہتا ہے
تھک گيا ہوں خوشيوں کي تلاش ميں جاگتے جاگتے
فرمان ہميشہ کيلئے سونے کو جي چاہتا ہے |