تو مجھ سے دور ميں تجھ سے دور
جس طرح سمندر کا پاني سمندر سے دورہو کونہ ويراں پڑا دل کا تيرے لئيے
جا نہيں سکتي تو اس کھنڈر سے دور
ہاتھوں میں ہاتھ لب تھے خاموش
نہيں ميں اس منظر سے دور
پوجتا ہے کيوں تيرے حسن کو ہر کوئي
کيا چلا گيا ہے بھگوان مندر سے دور
بانٹتا تھا کبھي سب کو اپنے ہاتھ سے
بيٹھا ہے آج خود فرمان لنگر سے دور |