|
آدمي کو آدمي سے پيار
ہونا چاھئيے
اور پيار کا اظہار بھي ہر بار ہونا چاھئيے
ديکھ کر مجھکو حقارت سے
وہ نظريں پھير ليں
يہ تماشہ بھي سر بازار ہونا چاھئيے
ميں تو مجرم ہوں گنہگار
وفا ٹھرا ہوا
آپ کو ليکن ذرا اعتبار ہونا چاھئيے
ہو جنت سي حسيں کوئي جگہ
اپنا جہاں
اک چھوٹا سا سہي سنسار ہونا چاھئيے
کچھ نہ ممکن نھيں حوصلہ
گر ہو جوان
انسان کو اپني ذات پر اعتبار ہونا چاھئيے
|