Download Urdu Font ipaki.com
News Islam Pakwan Urdu Adab Women Children


  اردوادب | شاعري | آپ کي شاعري | فوزيہ امين
غزل
اے کاش ميں ہوا ہوتي
نہ مجھے قبرستان سے گزرنے کا خوف ہوتا
نہ مجھے پھولوں کے سنگ رہنے کي چاہ ہوتي
نہ مجھے کسي کے ساتھ کي تمنا ہوتي
نہ مجھے سمندروں ميں ڈوب جانے کا خوف ہوتا
نہ جنگلوں سے گزرنے کا ڈر ہوتا
نہ برستي بارش ميں بھيکنا برا لگتا
نہ تيز دھوپ سے بدن ميرا جلتا
نہ چاند تاروں کو ديکھ کر آہيں بھرا کرتي
نہ سرديوں کي شاموں میں تنہا پھرا کرتي
نہ گرميوں ميں کسي پيڑ کے سائے تلے
کچھ دير رکنے کو من ميرا کرتا
نہ خوف ہوتا مجھے جينے اور مرنے کا
نہ ڈر ہوتا مجھے ٹوٹنے بکھرنے کا
نہ کانٹا چھبتا کوئي پاؤں ميں کبھي ميرے
نہ رہتيں منتظر آنکھيں ہجر میں تيرے
نہ آس رہتي مجھے ملنے اور بچھڑنے کا
نہ دھڑکا رہتا مجھے تيرے روٹھ جانے کا
سب کو مانتي، جانتي اور چاہتي
نہ نفرتوں کا ميرے دل میں سلسلہ ہوتا
ميري نظر ميں ہر اک آدمي بڑا ہوتا
پہاڑ، پيڑ، پھول پودے چاند تارے سبھي
ديہات، شہر، سمندر اور کانٹے بھي
غريب، امير، جوان بوڑھے اور بچے بھي
ميں سب سے ايک سي رہتي سبھي کو چاہ سکتي
نہ کوئي فرق ميں ان ميں کبھي کيا کرتي
Please use the forum for any questions!
This page has 3 comments. View/Add comments.
New Page 1 iPaki News Jobs at  Ipaki.com iPaki Classifieds iPaki Music iPaki Forum iPaki Yellow Pages Ecards iPaki Urdu