|
|
| حمد |
اے ميرے رب
ميري تنہائي ميں يہ سوچ آتي ہے
تم سامنے ہوتے تو ايسا ہوتا
تم سامنے ہوتے تو ويسا ہوتا
اگر تم سامنےہوتے تو تمہاري آنکھوں ميں
اپنے لئيے رحم ديکھتا
تمہارے ہاتھوں کو تھام کر
اپنے ہونٹوں سے لگا تا
تمہارے قدموں میں سر رکھا
کوئي التجا کرتا
اگر تم سامنے ہوتے
تمہارے چہرے پہ اپنے لفظوں کا
الشر ديکھتا
تکليف کي شدت سے
تمہاري گود ميں سر چھپاتا
تمہارے ہونٹوں سے نکلتے لفظ
کن کو سنتا
گر تم سامنے ہوتے تو کتا اچھا ہوتا
پر يہ بھي کچھ برا نہیں تھا
گر تو جو سامنے نہيں
ميں تيري نظر کے سامنے ہوں
|
|
 |