بارشوں کا موسم ہے پھر بھي آنکھ پر نم ہے
پيار کہا ں پہيلي ہے دو دلوں کا سنگم ہے
چاروں اور ميلے ہيں پھر بھي ہو کا عالم ہے
خون رستا رہتا ہے جانے کيا مرہم ہے
خود سر ضدي اور ھٹلر يہ ہي ميرا بالم ہے