|
|
| غزل |
بہت ہي زيادہ اندھيرا ہے
چاروں طرف اور سياہي کي چادر رہے
ہوا کو کوئي روزن نہ دريچہ
اور سانس
جسم ميں سانس بھي تو نہيں
اس پہ جگہ بھي اتني تنگ
کہ پلک بھي نہ جھپک سکوں
ميرے چاروں اور آدم خود کيڑے
اور خون چوسنے والے جانور ہيں
کوئي ہاتھوں پہ ڈنک مارتا ہے
تو کوئي پيرون پہ
کوئي نظر کا خون چوستا ہے
تو کوئي دل کا
درد کي بھاري سليں ہيں جو سينے پہ ٹکي ہوئي ہيں
دکھوں کا ازدھا ہے جو ميرے گرد لپٹ گيا ہے
ميں کس کس سے بچوں اور کيسے بچوں
کوئي ناک ميں گھس رہا ہے
تو کوئي کان ميں جا رہا ہے
کسي کي منہ ميں انگلياں ہيں
تو کوئي دماغ کھا رہا ہے
ميں بلدوں بھي تو کس کو
نہ ميں کسي کي منتظر ہوں
نہ کوئي ميرا ہمنوا ہے
يہ جو درد بے کراں ہے
بس اتنا ہوگيا ہے
يہ ضمير بن گيا ہے |
|
 |