بس ايک ہي لمحہ تھا
سب زندگي پہ بھاري
جب دل تمہيں ديا تھاپاؤں ميں لگي مہندي
ماتھے پہ بنديا
تم جب سے گئے سجنا
کھو گئي ميري ننديا
بے کل بے کل ہے من
جائے پياء کب آئے
سيج پہ سوچے دلھن
بيچ ميں اپنے لکير ہے سائيں
بادشاہ تو
ہم تو فقير ہيں سائيں
دريا ہو کہ صحرا
سب ايک سے منظر ہيں
جتنے بھي ملے گھاؤ
سب ہي ميرے اندر ہيں
کاہے بکھير ہ ہے
چل پھينک اسے سجني
يہ دل ميرا کچرا ہے |