|
دھوپ ميں لگتا ہے
بادل کي طرح
سرمئي آنکھ ميں کاجل کي طرح
يوں مجھے رات
ڈھانپ ليتي ہے
کسي دوشيزہ کے آنچل کي طرح
اس کي چاہت کا
انداز بھي نرالہ ہے
وہ مجھے چاہتا ہے پاگل کي طرح
آدھي رات کي
ملاقات يوں مشہور ہوئي
بج اٹھي پير ميں پائل کي طرح
ميري پياس کا ذکر
جب ان سے ہوا
آکے وہ مجھ پہ کھل گئے چھا گئے گل کي طرح |