دن تو بحر کيف گزر جاتا ہے
رات کو ليکن گھر ياد آتا ہےدل تھام کہ ہم رہ جاتے ہيں
انکے تو منہ سے نکل جاتا ہے
کبھي گزرا تھا ساتھ تيرے جو
وہي لمحہ ہميں ستاتا ہے
جب نہيں ہوتا دو جا کوئي بھي
وہ ميرے پاس آجاتا ہے
وقت شايد اسي کو کہتے ہيں
کبھي ہنساتا کبھي رلاتا ہے
اس کو معلوم ہے ميرے ذوق کا
اس لئے شعر وہ سنتا ہے
دل تو جيسے کرائے کا ہے مکاں
ہر کوئي چھوڑ کر چلا جاتا ہے
رات کے پر فريب لمحوں ميں
وہ ميرے خواب ميں آجاتا ہے
اپنے پياروں کو چھوڑ جينا
وقت يہ منظر بھي دکھلا تا ہے
دل کو سمجھا نا بے سود ہوا
يہ تو دشمن پہ بھي آجاتا ہے
ہنستے ہنستے درد کو سہنا
پياريہ قرينہ بھي سکھاتا ہے |