|
دکھ درد کي کوئي
زباں نہيں
دکھ پاني کا جو عياں نہيں
درد جب حد سے گزجاتا ہے
پاني دل بھي دھڑکتا ہے
اسکے دل ميں کئي طوفان ہيں
کم نظر جن سے انجان ہيں
قطرہ قطرہ جو خون پيتا ہے
لمحہ لمحہ پھر وہ مرتا ہے
دکھ انسان کو جو بھي ملتا ہے
پاني بن کر وہ نکلتا ہے
دکھ پاني کو جو بھي ملتا ہے
سونامي بن کر وہ ابلتا ہے |