|
اک زخم نامراد ہے
جو روح پہ لگ گيا ہے
جو روز بڑھ رہا ہے
جو درد کر رہا ہے
جو خوں سے قربہ تر ہے
جو پار بہ جگر ہے
جو جاں بلب ہے انتا
ميرے ظبط کي انتہا کو
پامال کر رہا ہے
ميرے رفو جر جو حاصل
وہ ہنر ہي نہيں ہے
وہ سئيے ہے ميرے زخم کو
اسکے چاک اور کھتے ہيں
ميرے زخم کو سيتے سيتے
ميرا رفو گر بھي تھک گيا
ميرے زخم کي گہرائي
مجھ موت تک لے آئي
کہ ميرا طبيب کہہ رہا ہے
يہ مرض لداوا ہے
اک زخم نا مراد ہے
جونا سور بن گيا ہے |