|
|
| غزل |
گر تم کو کوئي پيارا ہوتا
کوئي ديپک چاند ستارا ہوتا
کوئي دل کي دھڑکن تمہارا ہوتا
بن جس کے تم نہ جي پاتے
جسے کھو کے جوگي بن جاتے
جسے ڈھونڈتے پھرتے قريہ
جسے ديکھ کے گل سے کھل جاتے
کبھي تنہائي ميں ہوتے جو
جسے سوچ کہ خود ہي مسکاتے
جب ہوتا پاس تمہارے تو
پلکيں بھي تم نہ جھپکاتے
کبھي گھنٹوں سوچتے رہتے اور
کبھي دل ہي دل ميں شرماتے
کبھي رکھ کے سر اس کے شانوں پہ
دکھ اپنے سارے کہہ جاتے
کبھي کھيلتے اسکي زلفوں سے
کبھي ہاتھ اس کے سہلاتے
کبھي بند کرکے بھي آنکھوں کو
اور سامنے اس کو ہي پاتے
کہيں لگتي اس کي خوشبو جو
تم پاگل پاگل ہو جاتے
کبھي ڈھونڈتے رہتے تاروں ميں
کبھي چاند ميں خود ہي کھو جاتے
کبھي پاتے اس کو بستر پہ
کبھي دھيرے سے اسے چھو جاتے
کبھي کہتے اس کو جاں اپني
کبھي جان اس کي بن جاتے
ميں سوچتي ہوں يہ اکثر
گر تجھکوں بھي کوئي پيارا ہوتا
جو روٹھ جاا تمہاري طرح تم سے
پھر کيسے تمہارا گزارا ہوتا؟ |
|
 |