غم کو ديکھ کر بھي اب غم نہيں ہوتا
يہ کيسا پيار ہے تيرا جو کم نہيں ہوتاانکي نفرت اور محبت ميري اک ايسا دريا
ہے
ساتھ دونوں چلتے ہيں اور پاني مد غم نہيں ہوتا
جب دلوں ميں بڑھ جائيں حد سے بڑھ کر رنجش
تب ميں اور تو ہي رہتا ہے کبھي لفظ ہم نہيں ہوتا
ہر اک پہ جان چھڑکتے ہوں ہر اک پر کھلنے لگتے ہو
کب سدہروگے امين تم ہر ايک ہمدم نہيں ہوتا
ميں لفظ جو بھي لکھتا ہوں يہ سب اسکا سائيہ ہے
جو درد دل ميں اٹھتا ہے بھي پورا ختم نہيں ہوتا |