|
ہر طرف دنو کا جھگڑا
ہے
سب طرف دنوں کا جھگڑا ہے
کبھي يوم عورت کا
منايا جا رہا ہے
تو کبھي يوم قادر
کبھي مدر ڈے تو
کبھي چائلڈ ڈے
کبھي يوم مزدور
تو کبھي راکھي کا دن
کبھي فلاور ڈے
تو کبھي ويلنٹائن ڈے
ہر اک رشتہ کا اک دن
ہے
ہر دن کي اک کہاني ہے
پر ميري جو يہ جواني
ہے
ہر رشتہ سے بے گاني ہے
نہ ميں کسي کا نہ
کوئي ميرا ہے
يہ جو دنو ں کا جھگڑا ہے
بس جنس پہ آکے ٹھرا
ہے
کيا تم نے کبھي سنا ہے يہ؟
آج يوم ہيجڑا منايا جا رہا ہے۔ |