|
ہم شاعر لوگ
کچھ پاگل سے ديوانے سے
لفظوں کے تانے بانے سے
جب دل کے ارمان کہتے ہيں
جو کچھ بھي ہم لکھتے ہيں
پھر بھي جانے کيوں دنيا
ہم کو ديوانہ کہتي ہے
ہم دکہ سہتے ہيں پھر ہنستے ہيں
اور ہنستے ہنستے درد دل
لفظوں ميں بنتے رہتے ہين
وہ لفظوں جو درد ميں ڈوبے ہوں
کوئي کيا جانےقيمت انکي
جب زندگي کي منڈي ميں
لفظوں کي بولي لگتي ہے
تو شاعر کي ساري پونچي
بس اونے پونے بکتي ہے |