|
ان سوني کلائيوں
ميں تمکو اب چوڑياں کون پہنائے گا
خوس اپني تپش ميں جلنے سے سورج کو کون بچائے گا
وہ ديوانہ وہ
سودائي کہتے تھے تم جسکو ہرجائي
وہ چھوڑ کر تم کو جا بھي چکا اب کون اسے بلائےگا
اک وقت ايسا بھي
آئے گا ہر زخم خود ہي بھر جائے گا
ان ويران قبروں پہ آخر کب تج نير بہائے گا
تم داستان گوجسے
کہتے تھے کل شب گيا وہ دنيا سے
اب سچي محبتوں کے قصے کون تمہيں سانئے گا
بس رات گئي سب
ديپبجھے اور سارا قصہ ختم ہوا
يہ راکھ کا خالي ڈھير ہے جسم اب کون يہاں پر آئے گا |