کيا ہوا جو تو ملا نہيں خواہش کا پھول کھلا نہيں
بچھڑ کر تجھ سے کي ليں گے مرنے کا ابھي حوصلہ نہیں
وہ اک تبسم دم رفعت وفائوں کا ميري صلہ نہيں
جل گيا جسم جدائي سے مگر دل ہے کہ ابھي جلا ہي نہيں
ميں انتظار اب بھي کرتي ہوں اگر چہ انتظار کا حوصلہ نہیں