|
ميں جو نکلا تھا آج ميلے ميں
سوچ کہ کچھ ساماں خريد لونگا
ہے عيد سعيد کا موسم
لوگ ليتے ہيں اپنے پياروں کے
واسطے نے نئے تحفوں کو
اتني خوبصورت چيزوں ميں
اک چادر پسند آئي مجھے
سوچا لے لوں واسطے ماں کے
ديکھا اک حيسن سا کرتا
ياد آگئي بھائي کي اپنے
اک جلترنگ لائٹر بھي ملا
سوچا پپاکو آئے گا پسند يہ
پھر اچانک ہي ياد آيا مجھے
ميں نہيں ہوں انکے دھيان ميں
وہ مگن ہيں اپنے جہان ميں
وہ منائيں عيد مليے ميں
اور ھم يہاں اکيلے ميں
سوچ کر ان ساري باتوں کو
اور پھر دل ٹوٹ گيا
اک زور دار چھنا کے سے |