|
مزہ ہے کيا اس
جينے ميں
کہ جاں تو ہو پر دل نہ سينے ميں
يہ جنوري تو بڑا
جان ليوا لگتا ہے
وہ چھوڑ گيا تھا اسي مہينے ميں
بخش دو مجھے بھي
گوہر ناياب
کمي ہے کيا يارب تيرے خزينے ميں
جس کے دم سے اچھال
ديا ہے لہروں نے
اک ايسا شخص بھي ہے سفينے ميں
دل کا ميل صاف بھي
ہوتو کيونکر
کہ بال پڑ گيا ہے نگينے ميں
پتہ بدل گيا ہے
امين کا ياروں
دل کي جگہ رہتے ہيں اب وہ سينے ميں
خود بڑھ کر لگا
ليتا ہو دشمن کو گلے
بس يہ ہي خوبي ہے مجھ کمينے ميں |