|
يا محمد محمد
بھي کہتا رہے اور زباں بھي ڈگمگائےتو ميں کيا کروں
خواب ميں آکہ وہ مجھکو تڑپا کيسے سامنے وہ نہ آتيں تو ميں کيا کروں
ميں خطا کار ہوں ميں گناہ گار ہوں ميں
کمنہ بھي ہو پر يا علي علي
ميں خطائيں کروں وہ عطاھي کريں وہ مجھے بخشوائيں تو ميں کيا کروں
ميري تسکيں کو
اتنا کرم کيجئے خالي جھوٹي ہے آقا جي بھر ديجئے
ميرے عيبوں کا ہے جو ننگا بدن وہ کملي اڑائيں تو ميں کيا کروں
ميرے لب پہ فقط
انکا ہي کام ہو آپ کو شر جيسا کوئي جام ہو
ساقي ہوں مصطفے جام انوار کا وہ نظر سے پلائيں تو ميں کيا کروں
|