|
قدم لڑکھڑاتے ہيں نظريں جھکي ہيں اور دامن
ہے خالي
حقيقت ہے کوئي يا ہے ميرا سپنا
کہ اب سامنے ہے روضے کي جالي
ميں روضے پہ بے شک کھڑي رو رہي
آنسوئوں کي زباں ميں بھي کہہ رہي ہو
تمہيں تو پتہ ہے تمہیں تو خبر ہے تمہيں ہمکو دوگے
کہ آيا ہے در پر تمہارے
سوالي
ميں مل جائو خاک طيبہ ميں ايسے کہ اڑ اڑ کہ لوں
مينار نبوي کے بوسے
جہاں سے گزر ہو آپکا يا محمد
بچھادوں وہاں اپني آنکھيں اور پلکيں
عطا کردو
مجھکو بھي عشق محمدي
کھلونوں سے اپنے سب ہي
کھيلتے ہيں
تمہارا کھلونا تو سب سے جدا تھا وہ ماہ جبيں تھا
زميں پہ ہي رہ کر کيا جب اشارہ فلک پر ہوا تڑپ کر دو ٹکڑے
گر آپ نےجو انگلي
اٹھا لي |