|
سب کچھ بھول چکي
ہوں
نام بھي اپنا ياد نہيں
مقام بھي اپنا ياد نہيں ہے
ياد نہيں ہے رستہ گھر کا
جو سرمايہ تھا عمر بھر کا
وہ بھي رکھ کر بھول گئي ہوں
بھول گئي ہوں باتيں ساري
کھو چکي ہوں سيکھياں پياري
پياري پياري قسميں ساري
ملکے ہم نے کھائي تھي جو
وہ بھي اب ياد نہيں ہے
کچھ بھي مجھکو ياد نہیں ہے
گزرا زمانہ، اپنا فسانہ
اسکا روٹھ جانا
پلٹ کر پھر واپس جانا
ذہن ميں ذہن دہند بھي ہے
ياد اگر کچھ ہے تو اتنا
تو مجھکو بھول گيا ہے |