|
|
| غزل |
سب ايسے ہي ہوا نہيں کرتے
جو کسي سے وفا نہيں کرتے
صدياں لگتي ہيں دکھ کو سہنے ميں
تاج محل ايسے بنا نہيں کرتے
لوگ ديتے ہیں ہم کو دھوکہ پر
ہم کسي سے وفا نہيں کرتے
جو بھي چاہتے ہيں ہم کو ملت اہے
ہم کبھي بھي دعا نہيں کرتے
کچھ ايسے لوگ بھي تو ہوتے ہيں
جو کسي سے نبھا نہيں کرتے
خود کو آئينہ بنانا پڑتا ہے
دکھ کسي کے دکھا نہیں کرتے
جو بھي ديت اہے ہنس کے سہتے ہيں
زخم اپنے سيا نہيں کرتے
دکھ کي دولت اک ايسي دولت ہے
جو کسي کو ديا نہيں کرتے
خون سے دھوتے ہيں تب بھي رہتے ہيں
داغ دل ايسے مٹا نہيں کرتے
ہم کو معلوم ہے دعا کا اثر
اس لئے بد دعا نہيں کرتے
ہم تو سحر فقير ايسے ہيں
جو گلي میں صدا نہيں کرتے |
|
 |