|
|
| غزل |
سانجھي نے مجھ سے کہا
اب ہے تيرا امتحاں
گر ہے تم کو ساجناں
مجھ سے الفت بے بہا
اب سونا ہے تمہيں
کانٹوں سے سجي سيج پر
پھر چلنا ہے تمہيں
تيز جلتي ريت پر
پھر پہنچوں گي وہاں
ہے پيار کي ميرے صنم
آخري منزل جہاں
دے کہ سارے امتحاں
اور ہو کہ آبلہ پا
جب ميں پہنچي تھي وہاں
پھر اس نے يہ کہا
اب چلو کانچ پر |
|
 |