|
|
| غزل |
تيري کيا تعريف کروں
تو وہ کہ تيرے احمريں لب
آہستہ سے جب
ميرے ہونٹوں کي نرميوں کو چھوئيں
تو کچھ ايسا لگے جيسے
کوئي دہکتا ہوا شرارہ
فقط شبنم کے ايک قطرے سے بچھ جائے
تيرے جسم کي نرم جدت
ميرے روم روم ميں شامل
تيري ساري خوشبوئيں ہيں
تيرا ناز دلزہائي
ميرے دل کو ايسے بھائے
ميں ديکھوں تجھ کو جب جب
ميرے من ميں اٹھے ہل چل
ميں تيرے قريب آکے
جو نظر ملاؤں تجھ سے
تو حيا کرے تقاضہ
يہ نظر نہ پھر اٹھانا
يہ ردائے لاج مجھ کو
تجھے ديکھنے نہ دے گي
ميري چشم نيم خواب
تيري ديد کي منتظر ہے |
|
 |