|
تھا
منتظر ميں کب سے کب سے انتظار تھا
ميرے گلوں پہ آئي ہيں مگر ايک بھي بہار
بچھڑتے
وقت تو رويا نہيں تھا ليکن
اب کھو کہ مجھ کو ميں روتا ہوں ذرا ذرا
مانا کہ
تيرا ملنا اب ہوگيا محال
دل ہے کہ کررہا ہے معجزہ کا انتظار
تم اک بار کہتے حاضر تھا ميرا سينہ
پھر يار کيوں کيا تم نے ميري پيٹھ پر وار
کچھ شام ہي سے ہي بجھ گئے ہيں چراغ گھر کے
کچھ دل بھي آج اپنا بے حد ہے بے قرار |