|
اک لڑکي ميلي سي
ڈھلکا آنچل
بکھرے بال
ٹوٹي چپل بہکي چال
رستے ميں خاموش کھڑي ہے
جانے کس کو ڈھونڈ رہي ہے
آتے جاتے ہر چہرے ميں
جانے کس کو کھوج رہي ہے
پيلي پيلي آنکھوں سے
ميلے ميلے ہاتھوں سے
کس کا پتہ پوچھ رہي ہے
بھوک سے ہے جسم نڈھال
پھر بھي آنسو پي رہي ہے
پاني خنجر کھوب گيا ہے
لڑکي جس کو ڈھونڈ رہي ہے
پاني ميں وہ ڈوب گيا ہے |