|
وہ آنکھيں
جو بينائي سے کمزور ہوئي جاتي ہيں
وہ کمزور ہاتھ
جسکي ابھري ہوئي نسوں میں
ميرا بچپن گم ہے
وہ لاغر سراپا
جسکے توانا گھٹنوں پر کبھي
سر پر رکھ کر ميں سويا تھا
وہ آنکھيں وہ ہاتھ وہ کمزور سراپا
رب بھي سر سجود ہے
ميرے لئے
اندہيري رات ميں محتاب ہے
ميري ماں نور کا سيلاب ہے
|