|
|
| غزل |
وہ اتني پاگل لڑکي ہے
ميري بانہيں پکڑ کر بولي يوں
تم چاند نگر کو جاتے ہو
اک سير کي خاطر تم ساجن
کيوں چھوڑ کہ گھر کو جاتے ہو
اس شہر میں سب کچھ ہے
يہاں بھيگي بھيگي شاميں ہيں
يہاں ٹھنڈي ٹھنڈي راتيں ہيں
يہاں پروائي بھي چلتي ہے
يہاں خوشبو رنگ بدلتي ہے
يہاں وفا بھي سستي ملتي ہے
يہاں رونق ہے
يہاں ميلے ہيں
يہاں لوگ بہت اکيلے ہيں
يہاں چڑياں گيت گاتي ہيں
يہاں لہريں شور مچاتي ہيں
يہاں چاند بھي روز نکلتا ہے
يہاں برکھا ہے
يہاں بادل ہے
يہاں ساگر ہے
يہاں دھوپ بہت ہي کومل ہے
چلو چھوڑ و سب کي بات صنم
يہاں کچھ بھي نہيں پر اتنا ہے
يہاں ايک پاگل لڑکي کا دل ہے |
|
 |