|
يہ کون آگيا ہے
دھيان ميں
پھول مہکنے لگے گلدان ميں
ديکھ کر جسکو
جيتاہوں ميں
اک شخص ايسا بھي ہے جہان ميں
ٹوٹے پر سوکھے پتے
خالي کنڈالياں
بس يہ ہي کچھ ہے ميرے سروسامان ميں
بار بار کے کھلنے
کي فکر ہمکو کيا ہوگي
کھينچ کرہم لائے ہيں خود کشتي طوفان ميں
وہ مجھ سے کہتے
تھے تيري گلي ميں نہ آئونگا
آج آدھي گئے وہ ميرے مکان ميں
لوگ پھول بوتے ہيں
اپنے اپنے آنگن ميں
ميں نے خار بوئے ہيں اپنے دامن ميں
ہر طرف روشني بکھر
گئي ہے گھر ميں
بات کچھ ايسي ہے ميرے مہمان ميں
سب مخلوق سے بڑھ
کر اشرف جو بنا رکھا ہے
علم کي خوبي ہے اس مٹي کے انسان ميں
جو بھي مانگ کر
ديکھو گن کہہ کر دے دے گا
کتني معصوميت ہے اس ميرے رحمان ميں |