|
زندگي تو ہميں
کہاں لے آئي
مڑ کہ جانے میں اب رسوائي
قدم اٹھائوں تو
شور اٹھتا ہے
فقت نے انجير وہ پسنائي ہے
بچھڑتے وقت ديکھا
نہيں اس نے مڑ کے
نام شايد اسي کا بے وفائي ہے
ٹوٹي چوڑي بکھرے
بال
ميرے چار سو پھيلي تنہائي ہے
بھت غم ديئے تھے
زمانے نے مجھ کو
تيري جانب سے بھي سو غات يہ ہي آئي ہے
يہي منظر تو
ديکھنا تھا ہميں
کہاں آ کے نظر گہنائي ہے
ابھي سمٹا بھي
نہيں ہوں بکھر کے
ياد پھر کيوں انکي چلي آئي ہے
ميں جو ڈوبا تو سب
گوں تھے خاموش کھڑے
يوں تو ساحل پہ کھڑے ہر شخص سے شناسائي ہے |