اپنے دامن ميں تلخياں لے کر
رات روئي ہے سسکياں لے کرموم جيسے بدن روانہ ہيں
سر پہ سورج کا سائبان لے کر
کچھ مسافر پلٹ کے آئے ہيں
اپني آنکھوں ميں تلخياں لے کر
الجھنوں کے نقيب يہ لمحے
پھر چلے ہيں مجھے کہاں لے کر
ہم ضياء خوش ہيں اس زمانے سے
دولت درد بے کراں لے کر |