آرزو کے شوخ رنگوں کے بکھر جانے کے بعد
ياد آئيں گے تمہيں يہ دن گزر جانے کے بعدبے حسي کے اس بھيانک
دور ميں اے دوستو
ياد آئے گا کيسے اب کون مر جانے کے بعد
اب کوئي انسان دھرتي پر نظر آتا نہيں
کھوگيا ہے يہ خلا ميں چاند پر جانے کے بعد
مسکراتي آنکھ سے تجھ کو کہوں گا الوداع
ہاں مگر، آنسو بہائوں گا ميں گھر جانے کے بعد
وقت لے کر آگيا ہے پھر پراني
الجھنيں
ميري قسمت کي ضياء زلفيں سنور جانے کے بعد
|