چراغ بجھ گئے، تاريکيوں نے گھير ليا
مسافروں کو يہاں راہ زنوں نے گھير لياکبھي تو شب کے اندھيروں نے
جال پھيلائے
کبھي کبھي ہميں اجلے دلوں نے گھير ليا
تمہارے گھر ميں بہاروں کے کارواں اترے
ہمارے گھر کو مگر زرديوں نے گھير ليا
وفا کا نام کسي دن زباں پہ کيا آيا
ہر اک طرف سے ہميں نفرتوں نے گھير ليا
اسي خطا ميں کہ خاروں کو پھول کہہ نہ سکے
امير شہر کے در باريوں نے گھير ليا |