دکھائي دے رہي ہے ہر طرف پرچھائيں مجھ کو
کہاں سے لے کر آئي ہيں کہاں تنہائياں مجھ کواس کي عضمتوں کا ہر
گھڑي قاتل رہا ہوں ميں
کہ جس کي ذات نے بخشي ہيں يہ گہرائياں مجھ کو
تمہيں يہ ايک مدت بعد آئيں گي نظر لوگو
دکھائي دے رہي ہيں آج جو پر چھائياں مجھ کو
تري رنگين محفل سے چلا جائوں گا چپکے سے
کر اس سے پيشتر گھائل کريں شہنائياں مجھ کو
رہا گہرائيوں سے واسطہ ہر ايک پل ميرا
انہي گہرائيوں نے ديں ضيا اونچائياں مجھ کو |