دل ميں وہ ميرے اہ وفغاں چھوڑ جائے گا
چہرے پہ وحشتوں کے نشاں چھوڑ جائے گااپنے جنوں ميں سر کو کٹا کے
کوئي يہاں
اک داستاں سود و زياں چھوڑ جائے گا
ماحول بد گماں کو غموں کي چٹان پر
تم ديکھنا يہ عہد بتاں چھوڑ جائے
تو ہم سفر بنا ہے مرا پر بتا مجھے
کن راستوں پہ اور کہاچھوڑ جائے گا
کہنے لگي ہين کھلتي ہوئي کونپليں ضياء
گلشن کو اب يہ دور خزاں چھوڑ جائے گا |