|
حشر سينے ميں بپا ہے اس برس
خون آنکھوں سے گرا ہے اس برس
مندمل جو عمر بھر نہ ہوسکے
زخم اک ايسا ملا ہے اس برس
جو رہا برسوں نظر کے سامنے
آنکھ سے اوجھل ہوا ہے اس برس
چارہ سازو تم تکلف مت کرو
درد ميرا، لا دوا ہے اس برس
اشک بے قيمت تو آہيں بےاثر
خون ارزاں ہوگيا ہے اس برس
|