|
ہم سے ملا ہے آج وہ راگير کي طرح
ہاتھوں ميں جس کا ہاتھ تھا زنجير کي طرح
کل تک جو سامنے تھا حقيقت کے روپ ميں
آنکھوں ميں آج ہے کسي تصوير کي طرح
اے کاش بانٹتا وہ مرے غم کے سلسلے
جو ميرے ساتھ ساتھ ہيں تعزير کي طرح
اس مرحلہ زيست تلک آگيا ہوں ميں
تاريکياں جہاں پہ ہيں تنوير کي طرح آنکھوں ميں خواہشوں کے ضياء
رنگ سجا کر
ہر خواب ديکھتا ہوں ميں تعبير کي طرح |