اس کے چہرے پہ بھي اک زرد اجالا ديکھا
چودہويں رات کے جب چاند کا چہرہ ديکھااس تنزل کے سياہ دور ميں
کچھ مت پوچھو
کيا بتائوں ميري آنکھوں نے ہے کيا کيا ديکھا
کٹ گئي عمر سياہ رات کي تاريکي ميں
نہ کوئي چاند، نہ جگنو، نہ ستارہ ديکھا
دوستو آپ کے ہوتے ہوئے اس دنيا ميں
ہم نے خود کو ہے ہر اک موڑ پہ تہنا ديکھا
تيري بستي کے ہر شخص نے خاموشي سے
ميري برباد محبت کا تماشا ديکھا
جو ضياء لوٹ کے آنے پہ رضامند نہ تھا
ميري آنکھوں نے اسي شخص کا رستہ ديکھا
|