|
جب حقيقت ان لبوں پر آئے گي
ہر طرف اک کھلبلي مچ جائے گي
روشني سے تيرگي ميں آئيے
زندگي کيا ہے، سمجھ آجائے گي
پھول سے بچوں کو غربت کي چھبن
زہر کھانے پر بھي اکسائے گي
يہ تعلق بوجھ ہے تو توڑ دو
اجنبيت خوب ہے، کام آئے گي
ايسا لگتا ہے کہ ناگن کوئي
ناگ سے مجھ کو ضيا ڈسوائے گي |