کاغذ کے اک ٹکڑے پر جو لکھا تھا
تم نے کب وہ رشتہ قائم رکھا تھاسب کے ہاتھوں ميں نفرت کے خنجر
تھے
ياد نہيں کس نے سينے ميں گھونپا تھا
وہ کب ساتھ نبھانے پر تھا آمادہ
ميں نے جس کي خاطر سب کو چھوڑا تھا
ناممکن ہے کيسے بتلا دوں سب کو
کس نے مجھ کو اپنا بن کے لوٹا تھا
برسوں بعد کھلا يہ بھيد ضياء مجھ پر
سچا تو جھوٹا تھا، جھوٹا سچا تھا
|