خلوص ايثار چاہت دوستي ہے
ملے ہيں زخم کتنے زندگي سےسبھي دشمن مقابل آگئے ہيں
ميں اب تنہا لڑوں گا ان سبھي سے
يہ اب ناسور بنتے جا رہے ہيں
کبھي جو زخم تھے کچھ واجبي سے
اندھيروں سے يہ دل ڈرتا نہيں ہے
يہ دل ڈرتا ہے اب تو روشني سے
مرے بچو يہاں سب اجنبي ہيں
کوئي اميد نہ رکھنا کسي سے
صدائيں بے کسون کي آرہي ہيں
ضياء ہر شہر کي ہر اک گلي سے |