خيالوں ميں ابھي تک گونجتي ہے
وہ اک آواز جو کہ کھو چکي ہےميں اک مدت سے ہوں خود سے گريزاں
کسي سے دوستي نہ دشمني ہے
اندھيري رات کے، اندھے نگر ميں
غنيمت ہے جو شمع جل رہي ہے
کوئي منزل، نہ کوئي راہبر ہے
ہمارے پائوں ہيں آوارگي ہے
کھلے ہيں پھول ليکن سوچتا ہوں
ضيا خوشبو کہاں ان کي گئي ہے |