کسي سے مل کے بچھڑنا بہت ہي مشکل ہے
خود اپني آگ ميں جلنا بہت ہي مشکل ہےميرے شعور کي ہر اک شکن نے
پرکھا ہے
کسي اميد پہ جيتنا بہت ہي مشکل ہے
خزاں نصيب شجر کہہ رہے ہيں مدت سے
کوئي بھي روپ بدلنا بہت ہي مشکل ہے
گئي رتوں نے مجھے يہ پيام بھيجا ہے
کسي کا ساتھ نبھانا بہت ہي مشکل ہے
يہ دائرے جو سبھي دوستوں نے کھينچے ہيں
ضياء کا ان ہي ميں رہنا بہت ہي مشکل ہے |