منزلوں سے راستے اچھے لگے
زندگي کے قافلے اچھے لگےچاہتوں کے بے يقين اس دور ميں
نفرتوں کے سلسلے اچھے لگے
ہار نے کا دکھ اٹھا چکنے کے بعد
جيتنے والے مجھے اچھے لگے
قربتوں کا بھيد کھل جانے کے بعد
دورياں اور فاصلے اچھے لگے
دوستوں کے ہاتھ سے لٹ کر ضياء
دشمنوں کے مشورے اچھے لگے
|