|
مٹي کو ميرے خوں سے لہو رنگ مت کرو
اک امن کے سفير سے يوں جنگ مت کرو
ميں اس فضا سے دور چلاجائوں گا کہيں
مجھ سے جدا يہ ميرے دف و چنگ مت کرو
ميرا سفر طويل بھي، جاناں کٹھن بھي ہے
نازوں ميں تم پلي ہو، مرا سنگ مت کرو
رہنے دو ميري سوچ کي ٹہني پہ زردياں
تم چاہتوں کے بھيک سے گل رنگ مت کرو
ناکاميوں کا زہر رگوں ميں اتار کر
خود عرصہ ء حيات ضياء تنگ مت کرو
|