نہ کوئي چاند ، نہ تارا، نہ روشني اتري
ہمارے گھر ميں جو اتري تو تيرگي اتريہوا کے لب پر فسانے گئي رتوں کے تھے
تمام شہر پہ جس روز خامشي اتري
تماہرے ساتھ چليں گے وفا کي راہوں ميں
دل و دماغ سے وحشت اگر کبھي اتري
کہيں اندھيروں نے پھيلا ديا فسوں اپنا
کہيں پہ دودھيا کرنوں کي پالکي اتري
وہ اور تھے جو دلوں ميں گداز رکھتے تھے
ضيا يہ اور ہيں جن پر ہے بے حسي اتري |